Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کرکیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کرAamir Ata (b. 1994)
- اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئےRafia Zainab (b. 1995)
- کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یارایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یارRafia Zainab (b. 1995)
- دیکھتے ہیں کب تلک یہ روگ پالا جائے گاآنکھ سے کب ہجر کا کانٹا نکالا جائے گاParaveen Rai (b. 1995)
- اک ندی کی دھار کا لے کر سہارا آ گئےساری دنیا گھوم کے تجھ تک دوبارہ آ گئےOm Awasthi (b. 1996)
- دوست بن کر آئے کوئی اور گلے ہنس کر لگےایک عرصہ ہو گیا ہے پیٹھ میں خنجر لگےG. R. Vashishth (b. 1996)
- زندگی میں اور کوئی تو مری حسرت نہیںوقت تیرا چاہتی ہوں بس تری فرصت نہیںGeetanjali Geet (b. 1997)
- جینا مشکل ہے یہاں آسان سب سے خودکشیاس لئے لگتی بھلی ہے زندگی سے خودکشیMadhav Jha (b. 1997)
- ہے گلہ اپنی جگہ اور عاشقی اپنی جگہدرد دل کے ساتھ ملنے کی خوشی اپنی جگہMadhav Jha (b. 1997)
- وقت کی زنبیل پلٹی اور اس تک جا گراجسم کا کشکول جس نے بد دعا سے بھر دیاOsama Khalid (b. 1998)
- اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہےآپ نے جب کہہ دیا بیکار ہے بیکار ہےCharagh Sharma (b. 1998)
- ہاتھ بھر دوری پہ ہے قسمت کی چابی آپ کیایک چھوٹا سا قدم اور کامیابی آپ کیCharagh Sharma (b. 1998)
- تم سے کس نے کہہ دیا کہ خودکشی کے ساتھ ہیںہم تو جاناں زندگی بھر زندگی کے ساتھ ہیںUbaid Najibabadi (b. 1998)
- جنبش لب اور ہے سوز نہانی اور ہےاس سے جو کہنی تھی مجھ کو وہ کہانی اور ہےUbaid Najibabadi (b. 1998)
- بڑھ گئی ہیں قربتیں بھی فاصلوں کے ساتھ ساتھاور محبت بڑھ رہی ہے قربتوں کے ساتھ ساتھSaba Tabish (b. 1999)
- آپ جیسوں سے وفا کر کے ملا کچھ بھی نہیںخیر ایسی بات سے مجھ کو گلہ کچھ بھی نہیںVihan Gupta Garg (b. 1999)
- ہم کہیں بھی ہوں مگر یہ چھٹیاں رہ جائیں گیپھول سب لے جائیں گے پر پتیاں رہ جائیں گیAadarsh Dubey (b. 2001)
- اس لیے لگتا ہے مجھ کو ڈر در و دیوار سےمجھ پہ ہنستا ہے کوئی شب بھر در و دیوار سےYasir Guman (b. 2001)
- یہ زمیں خاموش ہے یہ آسماں خاموش ہےاک تری آواز سننے کو جہاں خاموش ہےYasir Guman (b. 2001)
- ہر کوئی کرنے لگا ہے ہاتھ دھو کر خودکشیکر رہے ہیں سو مرے دل کے بھی نوکر خودکشیYashvardhan Mishra (b. 2002)
- حسن والے بزم میں انکار ہی کرتے رہےعشق والے عشق کا اظہار ہی کرتے رہےDard Faiz Khan (b. 2003)
- لائی تھی خلوت سے دل کی نا شکیبائی مجھےبزم میں بھی ہے وہی احساس تنہائی مجھےEhsan Nanparwi (b. 2010)
- خون رلوائے گی یہ جنگل پرستی ایک دنسب چلے جائیں گے خالی کر کے بستی ایک دنMunawwar Rana
- عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئےآپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہئےMunawwar Rana
- مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گیماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گیMunawwar Rana
- ہاں اجازت ہے اگر کوئی کہانی اور ہےان کٹوروں میں ابھی تھوڑا سا پانی اور ہےMunawwar Rana
- تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلکمجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگیMunawwar Rana
- شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاںماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگاMunawwar Rana
- میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیںصرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیاMunawwar Rana
- اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںجو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیںSaleem Kausar
- قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیںSaleem Kausar
- کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کونجب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر ہوتا ہے کونSaleem Kausar
- دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتایہ محبت زاد تجدید محبت مانگتاPirzada Qasim
- یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہےبن نہ پائے کچھ بھی لیکن دست قدرت میں رہےPirzada Qasim
- بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میںاب جہاں کوئی نہیں رہتا وہاں رہتا ہوں میںAhmad Mushtaq
- روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھااب جہاں دیوار ہے پہلے وہاں دروازہ تھاAhmad Mushtaq
- زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گےرنگ گل اور بوئے گل دونوں ہوا ہو جائیں گےAhmad Mushtaq
- مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گابس یہی نا درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گاAhmad Mushtaq
- نالۂ خونیں سے روشن درد کی راتیں کرومیں نہیں کہتا دعا مانگو مناجاتیں کروAhmad Mushtaq
- آج سنتے ہیں کہ میرے گھر وہ یار آنے کو ہےاپنے قابو میں دل بے اختیار آنے کو ہےجمیلہ خدا بخش
- اے صنم طالب نہیں وہ خلد سے گلزار کامبتلا کو چاہیے سایہ تری دیوار کاجمیلہ خدا بخش
- کیا خبر تھی یار کے آتے ہی آفت آئے گیقامت زیبا میں پوشیدہ قیامت آئے گیجمیلہ خدا بخش
- میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہےزاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہےHabeeb Moosavi
- بڑھ گئی کچھ اور الجھن رابطہ کرنے کے بعدخود سے بھی شکوہ رہا اس سے گلہ کرنے کے بعدBadr Muneer
- جب مکینوں کو مکیں آرام دے سکتے نہیںچار دیواری کو گھر کا نام دے سکتے نہیںBadr Muneer
- محو کر ڈالی کسی نے دل سے میری یاد تکہو نہیں سکتی مگر اس ظلم پر فریاد تکBadr Muneer
- نیند اڑنے کا سبب اور چین کھونے کا جوازپوچھتے ہیں لوگ مجھ سے عشق ہونے کا جوازBadr Muneer
- اور کیا مفہوم ہوگا خود فریبی کے سواتشنگی جلتے ہوئے سورج پہ گر ظاہر کریںBadr Muneer
- بن گئے انسان اپنی ذات میں جنگل منیرؔبستیوں سے اڑ گئی ہے بوئے آدم زاد تکBadr Muneer
- آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیاکل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیاAitbar Sajid