آپ جیسوں سے وفا کر کے ملا کچھ بھی نہیں

Vihan Gupta Garg (b. 1999)

آپ جیسوں سے وفا کر کے ملا کچھ بھی نہیں

خیر ایسی بات سے مجھ کو گلہ کچھ بھی نہیں

تیرے جاتے ہی مرے گھر کو اداسی کھا گئی

اب یہاں دیوار و در کے سوا کچھ بھی نہیں

ہم خیالوں میں تیرے رہتے ہیں جیسے قید میں

کون کہتا ہے محبت کی سزا کچھ بھی نہیں

میں تو ہجرت کے خیالوں سے بھی ڈر جاتا تھا اور

ایک وہ جس کو بچھڑنے پر ہوا کچھ بھی نہیں

آپ مانیں یا نہ مانیں آپ کی مرضی مگر

ایسا کہنا تو غلط ہے کہ خدا کچھ بھی نہیں

مجھ میں سے تجھ کو گھٹایا تو پتہ ہے کیا ہوا

مجھ میں سے تجھ کو گھٹایا تو بچا کچھ بھی نہیں

اس کے ہونے سے اندھیرا چھٹ سا جاتا تھا وہانؔ

ورنہ ایسی چاند راتوں میں رکھا کچھ بھی نہیں