یہ زمیں خاموش ہے یہ آسماں خاموش ہے
Yasir Guman (b. 2001)یہ زمیں خاموش ہے یہ آسماں خاموش ہے
اک تری آواز سننے کو جہاں خاموش ہے
تیرگی کے دشت میں سورج مکھی کھلتا نہیں
وحشتوں کے شور سے عمر رواں خاموش ہے
جب سے تیری یاد کے گھر سے نکلنے کا سنا
تب سے رنجیدہ ہیں دیواریں مکاں خاموش ہے
بے وفا تیری ادا نے یوں کرایا چپ مجھے
شور ہے اب دل میں پر میری زباں خاموش ہے
غیر فطری منظروں نے گھیر رکھا ہے مجھے
بھوک سے روتے ہوئے بچے کی ماں خاموش ہے
آج میرے ملک کے حالات ایسے ہو گئے
اپنی بربادیٔ قسمت پر جواں خاموش ہے
آپ کی محفل میں تہمت لگ گئی ہے اس لیے
میرے حق میں جو لکھا تھا وہ بیاں خاموش ہے