جب مکینوں کو مکیں آرام دے سکتے نہیں
Badr Muneerجب مکینوں کو مکیں آرام دے سکتے نہیں
چار دیواری کو گھر کا نام دے سکتے نہیں
زندگی نے بخش دی ہے وہ عدیم الفرصتی
اب تو خود کو اپنے صبح و شام دے سکتے نہیں
شامت اعمال سے ہم پر مسلط ہو گیا
ہم امیر شہر کو الزام دے سکتے نہیں
دوستو کرتے رہیں گے آپ کے حق میں دعا
اور تو خدمت کوئی انجام دے سکتے نہیں
پل رہے ہیں کتنے بچے روکھی سوکھی پر منیرؔ
ہم انہیں چلغوزہ و بادام دے سکتے نہیں