مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
Munawwar Ranaمختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گی
موت کا آنا تو طے ہے موت آئے گی مگر
آپ کے آنے سے تھوڑی زندگی بڑھ جائے گی
اتنی چاہت سے نہ دیکھا کیجیے محفل میں آپ
شہر والوں سے ہماری دشمنی بڑھ جائے گی
آپ کے ہنسنے سے خطرہ اور بھی بڑھ جائے گا
اس طرح تو اور آنکھوں کی نمی بڑھ جائے گی
بے وفائی کھیل کا حصہ ہے جانے دے اسے
تذکرہ اس سے نہ کر شرمندگی بڑھ جائے گی