محو کر ڈالی کسی نے دل سے میری یاد تک

Badr Muneer

محو کر ڈالی کسی نے دل سے میری یاد تک

ہو نہیں سکتی مگر اس ظلم پر فریاد تک

وحشتیں اتنی بڑھی ہیں کاروبار شوق میں

دور مجھ سے بھاگتا ہے اب مرا ہمزاد تک

تیری میری لغزشوں پر ہی کہاں موقوف ہے

بات چل نکلی تو پھر جائے گی یہ اجداد تک

سوچتا ہوں کیا کریں گے اندمال درد دل

غور سے سنتے نہیں ہیں جو مری روداد تک

بن گئے انسان اپنی ذات میں جنگل منیرؔ

اڑ گئی ہے بستیوں سے بوئے آدم زاد تک