دیکھتے ہیں کب تلک یہ روگ پالا جائے گا
Paraveen Rai (b. 1995)دیکھتے ہیں کب تلک یہ روگ پالا جائے گا
آنکھ سے کب ہجر کا کانٹا نکالا جائے گا
آج سے کل کل سے پرسوں اور سالوں سال ہی
کیا ہمارے وصل کو ایسے ہی ٹالا جائے گا
کب نہ جانے زندگی کا لطف آئے گا ہمیں
کب نہ جانے دل کے اندر کا یہ چھالا جائے گا
جرم یہ کی آپ سے ہم کو محبت ہو گئی
اب ذرا سے جرم پر کیا مار ڈالا جائے گا
زندگی بھر آپ نے ہم کو اچھالا ہے بہت
مر گیا تو کیا جنازہ بھی اچھالا جائے گا