حسن والے بزم میں انکار ہی کرتے رہے

Dard Faiz Khan (b. 2003)

حسن والے بزم میں انکار ہی کرتے رہے

عشق والے عشق کا اظہار ہی کرتے رہے

جینا مرنا اپنا ہم دشوار ہی کرتے رہے

ان کی ہر اک بات کا اقرار ہی کرتے رہے

ہم کو دیکھو ہم انہیں پر ہو گئے دل سے فدا

جو ہماری ذات کو مسمار ہی کرتے رہے

تیرے دل میں کون ہے یہ تو کبھی پوچھا نہیں

جان جاں ہم تو ترا دیدار ہی کرتے رہے

ہم سدا چنتے رہے سب خار جن کی راہ سے

وہ ہماری راہ کو پر خار ہی کرتے رہے

میرے اپنوں نے کیا ہے مجھ پہ یہ کیسا ستم

وہ مجھے اس پار سے اس پار ہی کرتے رہے

کوئی بھی ان کے مرض کی لا نہیں پایا دوا

وہ تو چارہ گر کو بھی بیمار ہی کرتے رہے

چند لمحے بھی سکوں کے مل نہ پائے ان کے ساتھ

فیضؔ کو وہ درد سے دو چار ہی کرتے رہے