اس لیے لگتا ہے مجھ کو ڈر در و دیوار سے

Yasir Guman (b. 2001)

اس لیے لگتا ہے مجھ کو ڈر در و دیوار سے

مجھ پہ ہنستا ہے کوئی شب بھر در و دیوار سے

تیرے بن میں خاک ہوں اور میرے بن تو خاک ہے

گھر سے ہیں دیوار و در اور گھر در و دیوار سے

گھر پہ ہلا بولتا ہے شام ہو جانے کے بعد

اک پرانی یاد کا لشکر در و دیوار سے

کس طرح کا شہر ہے یہ کس طرح کے لوگ ہیں

پھینکتا ہے ہر کوئی پتھر در و دیوار سے

یوں دل اپنا کھول کر تو عشق کی باتیں نہ کر

گھر کسی انجان کا ہے ڈر در و دیوار سے

بیٹھ جاتا ہوں کسی کونے میں چھپ کر اس لیے

خوف آتا ہے مجھے اکثر در و دیوار سے

خواب نے یہ چیخ کر مجھ سے کہا یاسر گمانؔ

جھانک کر دیکھا بھی کر باہر در و دیوار سے