Poetry
Poet
Meter
- میرے رونے پر کسی کی چشم گریاں ہائے ہائےوہ گل تر وہ فضائے شبنمستاں ہائے ہائےباسط بھوپالی
- نہیں یہ جلوہ ہائے راز عرفاں دیکھنے والےتمہیں کب دیکھتے ہیں کفر و ایماں دیکھنے والےباسط بھوپالی
- وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریںتیرا بھی اب خیال نہ آئے تو کیا کریںباسط بھوپالی
- ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہےمطمئن شمع ہے یا رقص میں پروانہ ہےباسط بھوپالی
- شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیاعذر نگاہ دوست نے جرم نظر سکھا دیاباسط بھوپالی
- محبت کی انتہا چاہتا ہوںانہیں حاصل ابتدا چاہتا ہوںباسط بھوپالی
- آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوںننگا گلے سے تم کو لگائے ہوئے تو ہوںبوم میرٹھی
- اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میںکون منہ مارے دہکتے ہوئے انگاروں میںبوم میرٹھی
- اچھلتا کودتا ہے خوش دل دیوانہ ہوتا ہےنظر کے سامنے جب جلوۂ جانانہ ہوتا ہےبوم میرٹھی
- اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کیتوڑ کے پھینک دیں سب کھڈیاں پاخانے کیبوم میرٹھی
- اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتیتو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہو جاتیبوم میرٹھی
- اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہےایک ذرا سی چیز ہے اس پر بھی اتنا ناز ہےبوم میرٹھی
- جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتاتو سالے نے کہا ہنس کر کے ہاں ہاں ہو نہیں سکتابوم میرٹھی
- جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادیکھ کر ان کو برہنہ مجھ کو پیار آ ہی گیابوم میرٹھی
- شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہےادھر ان کی نظر ہے خود بخود شرمائی جاتی ہےبوم میرٹھی
- ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھرکھ دیا باندھ کے چھپر میں اسے تیر کے ساتھبوم میرٹھی
- عدو کی ان کے کوچہ میں مرمت ہونے والی ہےکسی کی آج بے پیسہ حجامت ہونے والی ہےبوم میرٹھی
- کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مراکفر کے سایہ میں بڑھتا رہا اسلام مرابوم میرٹھی
- جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگےتنکے اڑا اڑ کر نشیمن کا پتہ دینے لگےبوم میرٹھی
- نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوںاسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوںبوم میرٹھی
- اس لئے تیز بھاگتا ہوں میںاپنے پیچھے پڑا ہوا ہوں میںEhsanul Haq Mazhar
- تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھامیں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھاEhsanul Haq Mazhar
- تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھاہم نے دیوار اٹھا دی ہے جہاں رستہ تھاEhsanul Haq Mazhar
- جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیںمیں سمجھتا ہوں اچھی نیند نہیںEhsanul Haq Mazhar
- خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھاہمارے ذہن میں کچھ اور تھا وصال نہ تھاEhsanul Haq Mazhar
- زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہےکمرے بڑھتے جا رہے ہیں صحن چھوٹا ہو رہا ہےEhsanul Haq Mazhar
- گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھاایک رستے سے مجھے پیار ہوا کرتا تھاEhsanul Haq Mazhar
- وہ پریشانی سر دشت عدم ہے ہم کوباغ رضوان بھی مل جائے تو کم ہے ہم کوEhsanul Haq Mazhar
- یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیںہم کو وہ شخص بلاتا ہے تو ہم بولتے ہیںEhsanul Haq Mazhar
- اس محبت سے مری سمت کوئی دیکھتا ہےرک بھی جاتا ہوں کبھی دشت کو جاتا ہوا میںEhsanul Haq Mazhar
- تم عادتاً کہو گے اسے یار معذرتلیکن یہ اعتراف کے زمرے میں آئے گاEhsanul Haq Mazhar
- راستے اور بھی جاتے ہیں ادھر کو لیکنوہ مرے دل سے گزرتا ہوا گھر جاتا ہےEhsanul Haq Mazhar
- زندگی اس کی امانت تھی وگرنہ مظہرؔہم اسے اپنے تصرف میں بھی لا سکتے تھےEhsanul Haq Mazhar
- فی زمانہ یہ مروت بھی بہت ہے مظہرؔان کو جانا تھا مگر دوست بہانے سے گئےEhsanul Haq Mazhar
- اب میں پیام فصل بہاراں کو کیا کروںدامن کہاں سے لاؤں گریباں کو کیا کروںEhsas Muradabadi
- اب وہ پہلے سے مہر و ماہ نہیںکوئی آسودۂ نگاہ نہیںEhsas Muradabadi
- الم کی حد ہے کہاں بے کسی کہاں تک ہےہمارے غم میں تمہاری خوشی کہاں تک ہےEhsas Muradabadi
- بے سبب عشق کب اداس رہاوہ تمہارا ادا شناس رہاEhsas Muradabadi
- تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تکحیات کا اعتبار ہو بھی نگاہ کا اعتبار کب تکEhsas Muradabadi
- چین پڑتا نہیں ہے سونے میںسوئیاں تو نہیں بچھونے میںEhsas Muradabadi
- درد کا درد سے درماں کرتےیوں علاج غم جاناں کرتےEhsas Muradabadi
- دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیامیرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیاEhsas Muradabadi
- زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہےجو تم تھے پاس تو سارے جہاں سے دور رہےEhsas Muradabadi
- طوفان محبت لاکھ اٹھے طوفان سے لیکن حاصل کیاجو ڈوب گئی وہ کشتی کیا جو ہاتھ آیا وہ ساحل کیاEhsas Muradabadi
- کوئی طوفاں تو نہیں کوئی تلاطم تو نہیںزندگی نام ہے جس کا وہ کہیں تم تو نہیںEhsas Muradabadi
- کہتے ہیں کہ یوسف کا خریدار تو لاؤاس جنس گراں کو سر بازار تو لاؤEhsas Muradabadi
- وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیںکبھی جو تھا وہ اب انداز گلستاں بھی نہیںEhsas Muradabadi
- ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہااس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہاEhsas Muradabadi
- بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہوبہتر ہے اس سے یہ کہ سرے سے زباں نہ ہومحمد علی جوہر
- تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیےکب در مے خانۂ کوثر کھلےمحمد علی جوہر