مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی
Aah Sambhaliمت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی
دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی
اک منزل ہجرت میں جب یاد تری آئی
رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی
ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے
جائے گی کہاں لے کر اے شرم شناسائی
یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا
ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی
جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا
سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی
اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری نظروں سے
دیتی ہے صدا مجھ کو وہ منزل رسوائی