کبھی دیوار لرزتی ہے تو در چیختا ہے

Badr-e-Alam Khan Azmi

کبھی دیوار لرزتی ہے تو در چیختا ہے

جانے کیا بات ہے دن رات یہ گھر چیختا ہے

سارے ماحول پہ طاری ہے کثافت ایسی

سانس لیتے ہوئے گھبرا کے شجر چیختا ہے

خامشی حوصلہ ظالم کا بڑھا دیتی ہے

اور خطا کار ہے مظلوم اگر چیختا ہے

روح میں ڈنک چبھوتی ہے ستم پیشہ حیات

ایک خاموش فغاں ہے کہ بشر چیختا ہے

کتنا بے خوف تھا وہ غار کی تاریکی میں

آج ہاتھوں میں لیے شمس و قمر چیختا ہے

کبھی تاریخ اچھلتی ہے کٹے ہاتھ کے ساتھ

کبھی نیزے پہ اچھالا ہوا سر چیختا ہے

پیش کرتا ہے چھپا کر غم پنہاں لیکن

اس کی تحریر کا ہر زیر و زبر چیختا ہے

سخت بیمار سہی تاجؔ ابھی زندہ ہے

اک مصور کا مگر خون جگر چیختا ہے