Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوانپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہواحسرت عظیم آبادی
  2. عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہےگل بھی اس کے غم میں دیکھو کیا گریباں چاک ہےحسرت عظیم آبادی
  3. قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبردل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
  4. کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے ملایک دم اے غنچہ لب ہم سے کبھی تو کھل کے کھلحسرت عظیم آبادی
  5. کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں توکیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں توحسرت عظیم آبادی
  6. کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہےرکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہےحسرت عظیم آبادی
  7. کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوالتجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوالحسرت عظیم آبادی
  8. گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتاہوتا نہ میں مہجور وہ محجوب نہ ہوتاحسرت عظیم آبادی
  9. میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگیاس سراپا عجب سے آنکھ لگیحسرت عظیم آبادی
  10. نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میراچشم تر ہی پہ رہا گوشۂ داماں میراحسرت عظیم آبادی
  11. نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کامخواریٔ عشق میں اپنی ہے ہمیں کام سے کامحسرت عظیم آبادی
  12. وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتشبھرے ہے ساقی یہاں پیالے ز آب اول دوم بہ آتشحسرت عظیم آبادی
  13. ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھومبلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھومحسرت عظیم آبادی
  14. ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جاگر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جاحسرت عظیم آبادی
  15. ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گےتاثیر وفا پر تجھے کیا یاد کریں گےحسرت عظیم آبادی
  16. ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقفنہ کفر کے محرم ہیں نہ اسلام سے واقفحسرت عظیم آبادی
  17. ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلاراحت سے ایسی ہم کو وو دل آزار ہی بھلاحسرت عظیم آبادی
  18. ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینااور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دیناحسرت عظیم آبادی
  19. یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشدوہ ولی نعمت دیدار سلامت باشدحسرت عظیم آبادی
  20. یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہابے درد دل کے در پئے آزار ہی رہاحسرت عظیم آبادی
  21. کم تر یا بیشتر گئے ہماس در سے بہ چشم نم گئے ہمحسرت عظیم آبادی
  22. آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گےآ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گےKhumar Barabankavi
  23. اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئےKhumar Barabankavi
  24. اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیںمری یاد سے جنگ فرما رہے ہیںKhumar Barabankavi
  25. ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہیKhumar Barabankavi
  26. بات جب دوستوں کی آتی ہےدوستی کانپ کانپ جاتی ہےKhumar Barabankavi
  27. بجھ گیا دل حیات باقی ہےچھپ گیا چاند رات باقی ہےKhumar Barabankavi
  28. پی پی کے جگمگائے زمانے گزر گئےراتوں کو دن بنائے زمانے گزر گئےKhumar Barabankavi
  29. ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میںچلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میںKhumar Barabankavi
  30. تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھےکچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھےKhumar Barabankavi
  31. جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیںکس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیںKhumar Barabankavi
  32. حال غم ان کو سناتے جائیےشرط یہ ہے مسکراتے جائیےKhumar Barabankavi
  33. حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیےعشق کے مغفرت کی دعا کیجیےKhumar Barabankavi
  34. دل کو تسکین یار لے ڈوبیاس چمن کو بہار لے ڈوبیKhumar Barabankavi
  35. سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جاسنگ در حبیب پر سر کو جھکا کے بھول جاKhumar Barabankavi
  36. غم دنیا بہت ایذا رساں ہےکہاں ہے اے غم جاناں کہاں ہےKhumar Barabankavi
  37. کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیابڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیاKhumar Barabankavi
  38. کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کےKhumar Barabankavi
  39. کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیںعشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیںKhumar Barabankavi
  40. مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیاتم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیاKhumar Barabankavi
  41. مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھKhumar Barabankavi
  42. نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہےدیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہےKhumar Barabankavi
  43. وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعدزندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعدKhumar Barabankavi
  44. وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہےاپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہےKhumar Barabankavi
  45. وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیںKhumar Barabankavi
  46. ہجر کی شب ہے اور اجالا ہےکیا تصور بھی لٹنے والا ہےKhumar Barabankavi
  47. ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھےدو گنہ گار زہر کھا بیٹھےKhumar Barabankavi
  48. ہنسنے والے اب ایک کام کریںجشن گریہ کا اہتمام کریںKhumar Barabankavi
  49. ہوش زدہ نادان سے ڈربات سمجھ انسان سے ڈرKhumar Barabankavi
  50. یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہےخدا ہے محبت محبت خدا ہےKhumar Barabankavi