Poetry
Poet
Meter
- عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوانپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہواحسرت عظیم آبادی
- عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہےگل بھی اس کے غم میں دیکھو کیا گریباں چاک ہےحسرت عظیم آبادی
- قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبردل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
- کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے ملایک دم اے غنچہ لب ہم سے کبھی تو کھل کے کھلحسرت عظیم آبادی
- کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں توکیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں توحسرت عظیم آبادی
- کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہےرکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہےحسرت عظیم آبادی
- کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوالتجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوالحسرت عظیم آبادی
- گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتاہوتا نہ میں مہجور وہ محجوب نہ ہوتاحسرت عظیم آبادی
- میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگیاس سراپا عجب سے آنکھ لگیحسرت عظیم آبادی
- نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میراچشم تر ہی پہ رہا گوشۂ داماں میراحسرت عظیم آبادی
- نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کامخواریٔ عشق میں اپنی ہے ہمیں کام سے کامحسرت عظیم آبادی
- وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتشبھرے ہے ساقی یہاں پیالے ز آب اول دوم بہ آتشحسرت عظیم آبادی
- ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھومبلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھومحسرت عظیم آبادی
- ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جاگر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جاحسرت عظیم آبادی
- ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گےتاثیر وفا پر تجھے کیا یاد کریں گےحسرت عظیم آبادی
- ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقفنہ کفر کے محرم ہیں نہ اسلام سے واقفحسرت عظیم آبادی
- ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلاراحت سے ایسی ہم کو وو دل آزار ہی بھلاحسرت عظیم آبادی
- ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینااور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دیناحسرت عظیم آبادی
- یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشدوہ ولی نعمت دیدار سلامت باشدحسرت عظیم آبادی
- یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہابے درد دل کے در پئے آزار ہی رہاحسرت عظیم آبادی
- کم تر یا بیشتر گئے ہماس در سے بہ چشم نم گئے ہمحسرت عظیم آبادی
- آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گےآ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گےKhumar Barabankavi
- اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئےKhumar Barabankavi
- اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیںمری یاد سے جنگ فرما رہے ہیںKhumar Barabankavi
- ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہیKhumar Barabankavi
- بات جب دوستوں کی آتی ہےدوستی کانپ کانپ جاتی ہےKhumar Barabankavi
- بجھ گیا دل حیات باقی ہےچھپ گیا چاند رات باقی ہےKhumar Barabankavi
- پی پی کے جگمگائے زمانے گزر گئےراتوں کو دن بنائے زمانے گزر گئےKhumar Barabankavi
- ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میںچلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میںKhumar Barabankavi
- تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھےکچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھےKhumar Barabankavi
- جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیںکس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیںKhumar Barabankavi
- حال غم ان کو سناتے جائیےشرط یہ ہے مسکراتے جائیےKhumar Barabankavi
- حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیےعشق کے مغفرت کی دعا کیجیےKhumar Barabankavi
- دل کو تسکین یار لے ڈوبیاس چمن کو بہار لے ڈوبیKhumar Barabankavi
- سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جاسنگ در حبیب پر سر کو جھکا کے بھول جاKhumar Barabankavi
- غم دنیا بہت ایذا رساں ہےکہاں ہے اے غم جاناں کہاں ہےKhumar Barabankavi
- کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیابڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیاKhumar Barabankavi
- کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کےKhumar Barabankavi
- کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیںعشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیںKhumar Barabankavi
- مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیاتم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیاKhumar Barabankavi
- مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھKhumar Barabankavi
- نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہےدیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہےKhumar Barabankavi
- وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعدزندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعدKhumar Barabankavi
- وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہےاپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہےKhumar Barabankavi
- وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیںKhumar Barabankavi
- ہجر کی شب ہے اور اجالا ہےکیا تصور بھی لٹنے والا ہےKhumar Barabankavi
- ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھےدو گنہ گار زہر کھا بیٹھےKhumar Barabankavi
- ہنسنے والے اب ایک کام کریںجشن گریہ کا اہتمام کریںKhumar Barabankavi
- ہوش زدہ نادان سے ڈربات سمجھ انسان سے ڈرKhumar Barabankavi
- یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہےخدا ہے محبت محبت خدا ہےKhumar Barabankavi