سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جا

Khumar Barabankavi

سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جا

سنگ در حبیب پر سر کو جھکا کے بھول جا

عشق کو برقرار رکھ دل کو لگا کے بھول جا

اس سے بھی مطمئن نہ ہو اس کو بھی پا کے بھول جا

دل سے تڑپ جدا نہ کر ساز کو بے صدا نہ کر

درد جو ہو فغاں طلب ہونٹھ ہلا کے بھول جا

درد اٹھے اٹھا کرے چوٹ لگے لگا کرے

کچھ بھی ہو تو بہ نام دوست ہنس کے ہنسا کے بھول جا

جام بہ دست و مے بہ جام یوں ہی گزار صبح و شام

زیست کی تلخیاں مدام پی کے پلا کے بھول جا

منزل عشق سے گزر بے خود و مست و بے خبر

چوٹ لگے تو اف نہ کر دل کو دبا کے بھول جا

گزرے ہوئے زمانے کو یاد نہ کر کبھی خمارؔ

اور جو یاد آ ہی جائے اشک بہا کے بھول جا