ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں

Khumar Barabankavi

ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں

چلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میں

سنبھالے تو ہوں خود کو تجھ بن مگر

جو چھو لے کوئی تو بکھر جاؤں میں

اگر تو خفا ہو تو پروا نہیں

ترا غم خفا ہو تو مر جاؤں میں

تبسم نے اتنا ڈسا ہے مجھے

کلی مسکرائے تو ڈر جاؤں میں

مرا گھر فسادات میں جل چکا

وطن جاؤں تو کس کے گھر جاؤں میں

خمارؔ ان سے ترک تعلق بجا

مگر جیتے جی کیسے مر جاؤں میں