ہوش زدہ نادان سے ڈر

Khumar Barabankavi

ہوش زدہ نادان سے ڈر

بات سمجھ انسان سے ڈر

ترک محبت بھی ہے فریب

ٹھہرے ہوئے طوفان سے ڈر

راہ جنوں ہے راہ نجات

کفر سے بھاگ ایمان سے ڈر

دوری و قربت کچھ بھی نہیں

عشق میں اطمینان سے ڈر

موت بھی اتنی تلخ نہیں

دوستوں کے احسان سے ڈر

ایک تبسم کم نہ سمجھ

آنسوؤں کے طوفان سے ڈر

ہونٹھ ہنسیں دل روئے خمارؔ

عشق کی جھوٹی شان سے ڈر