حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

Khumar Barabankavi

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے

اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے

جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے

دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے

سامنے آئنہ رکھ لیا کیجیے

آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد

اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے

زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے

اور غم ہوں تو وہ بھی عطا کیجیے

کوئی دھوکا نہ کھا جائے میری طرح

ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے

عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ

عقل کی سنئے دل کا کہا کیجیے