دل کو تسکین یار لے ڈوبی

Khumar Barabankavi

دل کو تسکین یار لے ڈوبی

اس چمن کو بہار لے ڈوبی

اشک تو پی گئے ہم ان کے حضور

آہ بے اختیار لے ڈوبی

عشق کے کاروبار کو اکثر

گرمیٔ کاروبار لے ڈوبی

حال غم ان سے بار بار کہا

اور ہنسی بار بار لے ڈوبی

تیرے ہر مشورے کو اے ناصح

آج پھر یاد یار لے ڈوبی

چار دن کا ہی ساتھ تھا لیکن

زندگی اے خمارؔ لے ڈوبی