تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے

Khumar Barabankavi

تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے

کچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھے

مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں

اے موت زندگی کا پتا چاہئے مجھے

یا رب معاف کر کے نہ دے کرب انفعال

میں نے خطائیں کی ہیں سزا چاہئے مجھے

خاموشئ حیات سے اکتا گیا ہوں میں

اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہئے مجھے

ان مست مست آنکھوں میں آنسو ارے غضب

یہ عشق ہے تو قہر خدا چاہئے مجھے

ناصح نصیحتوں کا زمانہ گزر گیا

اب پیارے صرف تیری دعا چاہئے مجھے

ہر درد کو دوا کی ضرورت ہے اے خمارؔ

جو درد خود ہو اپنی دوا چاہئے مجھے