بجھ گیا دل حیات باقی ہے
Khumar Barabankaviبجھ گیا دل حیات باقی ہے
چھپ گیا چاند رات باقی ہے
حال دل ان سے کہہ چکے سو بار
اب بھی کہنے کی بات باقی ہے
اے خوشا ختم اجتناب مگر
محشر التفات باقی ہے
عشق میں ہم سمجھ چکے سب سے
ایک ظالم حیات باقی ہے
ناصحان کرام کے دم سے
شورش کائنات باقی ہے
رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
کٹ گئی عمر رات باقی ہے
رحمت بے پناہ کے صدقے
اعتماد نجات باقی ہے
نہ وہ دل ہے نہ وہ شباب خمارؔ
کس لیے اب حیات باقی ہے