ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

Khumar Barabankavi

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

دو گنہ گار زہر کھا بیٹھے

حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے

تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے

آندھیو جاؤ اب کرو آرام

ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے

جی تو ہلکا ہوا مگر یارو

رو کے ہم لطف غم گنوا بیٹھے

بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا

گھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے

جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہم

سب نے چھیڑا تو لب ہلا بیٹھے

ہم رہے مبتلائے دیر و حرم

وہ دبے پاؤں دل میں آ بیٹھے

اٹھ کے اک بے وفا نے دے دی جان

رہ گئے سارے با وفا بیٹھے

حشر کا دن ابھی ہے دور خمارؔ

آپ کیوں زاہدوں میں جا بیٹھے