یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے

Khumar Barabankavi

یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے

خدا ہے محبت محبت خدا ہے

کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے

مجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے

ہوا کو بہت سرکشی کا نشہ ہے

مگر یہ نہ بھولے دیا بھی دیا ہے

میں اس سے جدا ہوں وہ مجھ سے جدا ہے

محبت کے ماروں پہ فضل خدا ہے

نظر میں ہے جلتے مکانوں کا منظر

چمکتے ہیں جگنو تو دل کانپتا ہے

انہیں بھولنا یا انہیں یاد کرنا

وہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے

گزرتا ہے ہر شخص چہرہ چھپائے

کوئی راہ میں آئینہ رکھ گیا ہے

بڑی جان لیوا ہیں ماضی کی یادیں

بھلانے کو جی بھی نہیں چاہتا ہے

کہاں تو خمارؔ اور کہاں کفر توبہ

تجھے پارساؤں نے بہکا دیا ہے