وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

Khumar Barabankavi

وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

زندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعد

دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد

آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد

روشنی کے لیے دل جلانا پڑا

ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب

وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد

دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا

دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا

ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد

بخش دے یا رب اہل ہوس کو بہشت

مجھ کو کیا چاہئے تجھ کو پانے کے بعد

کیسے کیسے گلے یاد آئے خمارؔ

ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد