بات جب دوستوں کی آتی ہے

Khumar Barabankavi

بات جب دوستوں کی آتی ہے

دوستی کانپ کانپ جاتی ہے

مجھ سے اے دوست پھر خفا ہو جا

عشق کو نیند آئی جاتی ہے

اب قیامت سے کیا ڈرے کوئی

اب قیامت تو روز آتی ہے

بھاگتا ہوں میں زندگی سے خمارؔ

اور یہ ناگن ڈسے ہی جاتی ہے