کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں
Khumar Barabankaviکیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں
عشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیں
دو پرندے اڑے آنکھ نم ہو گئی
آج سمجھا کہ میں تجھ کو بھولا نہیں
ترک مے کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے
کچھ کہا مے کو زاہد تو اچھا نہیں
ہر نظر میری بن جاتی زنجیر پا
اس نے جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں
چھوڑ بھی دے مرا ساتھ اے زندگی
مجھ کو تجھ سے ندامت ہے شکوہ نہیں
تو نے توبہ تو کر لی مگر اے خمارؔ
تجھ کو رحمت پہ شاید بھروسہ نہیں