کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا

Khumar Barabankavi

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا

بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا

ہزار ترک تعلق کا اہتمام کیا

مگر جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا

زمانے والوں کے ڈر سے اٹھا نہ ہاتھ مگر

نظر سے اس نے بصد معذرت سلام کیا

کبھی ہنسے کبھی آہیں بھریں کبھی روئے

بقدر مرتبہ ہر غم کا احترام کیا

ہمارے حصے کی مے کام آئے پیاسوں کے

ز راہ خیر گناہ شکست جام کیا

طلوع مہر سے بھی گھر کی تیرگی نہ گھٹی

اک اور شب کٹی یا میں نے دن تمام کیا

دعا یہ ہے نہ ہوں گمراہ ہم سفر میرے

خمارؔ میں نے تو اپنا سفر تمام کیا