غم دنیا بہت ایذا رساں ہے

Khumar Barabankavi

غم دنیا بہت ایذا رساں ہے

کہاں ہے اے غم جاناں کہاں ہے

اک آنسو کہہ گیا سب حال دل کا

نہ سمجھا تھا یہ ظالم بے زباں ہے

خدا محفوظ رکھتے آفتوں سے

کئی دن سے طبیعت شادماں ہے

وہ کانٹا ہے جو چبھ کر ٹوٹ جائے

محبت کی بس اتنی داستاں ہے

یہ مانا زندگی کامل ہے لیکن

اگر آ جائے جینا جاوداں ہے

سلام آخر ہے اہل انجمن کو

خمار اب ختم اپنی داستاں ہے