وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہے

Khumar Barabankavi

وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہے

اپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہے

وہ اکیلے میں بھی جو لجاتے رہے

ہو نہ ہو ان کو ہم یاد آتے رہے

یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد

دوستوں کے کرم یاد آتے رہے

آنکھیں سوکھی ہوئی ندیاں بن گئیں

اور طوفاں بدستور آتے رہے

پیار سے ان کا انکار برحق مگر

لب یہ کیوں دیر تک تھرتھراتے رہے

تھیں کمانیں تو ہاتھوں میں اغیار کے

تیر اپنوں کی جانب سے آتے رہے

کر لیا سب نے ہم سے کنارا مگر

ایک ناصح غریب آتے جاتے رہے

مے کدے سے نکل کر جناب خمارؔ

کعبہ و دیر میں خاک اڑاتے رہے