Poetry
Poet
Meter
- مجھے سبز سفر در پیش ہےسورج مکھی کا باغOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- میرے نزدیک محبت الہامی شے ہےیہ آسمانوں سے اترتی ہےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- ہجر کے تپتے ہوئے صحرا میںکوئی بیمار شفایاب نہ ہو پائے اسےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- یاد کے پتوں کا رنگہمیشہ سبز نہیں رہاOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- یادوں کے حصار میں جکڑے وجود پہشب نے آخری دستک دیOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- اس کو فراق یار کا مطلب نہیں پتہمطلب اسے بھی پیار کا مطلب نہیں پتہKaif Uddin Khan (b. 2000)
- بھلے سکوت میں ٹوٹے یا کو بہ کو ٹوٹےمیں چاہتا ہوں کہ اندر کی ہاؤ ہو ٹوٹےKaif Uddin Khan (b. 2000)
- پہلے تو یہ لگا مجھے اس پار گر گئیپھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر گئیKaif Uddin Khan (b. 2000)
- حسین خواب کے نقش و نگار کیوں ٹوٹےخلاف باعث تعبیر تھے سو یوں ٹوٹےKaif Uddin Khan (b. 2000)
- کسی کے بعد رو کر کیا ملے گاملال عشق ہے ہو کر رہے گاKaif Uddin Khan (b. 2000)
- وہم کی انتہا ہے کیا یعنیمسند ذہن پہ خدا یعنیKaif Uddin Khan (b. 2000)
- یوں طلب گار ہو گیا ہے دلسمجھو بیمار ہو گیا ہے دلKaif Uddin Khan (b. 2000)
- پہلے سی والہانہ طبیعت نہیں تریکیا زندگی سے کوئی شکایت نہیں تریVaibhav Kumar (b. 2000)
- تجھے اے دوست مرا ترجمان ہونا ہےترے ہی لب سے مرا غم بیان ہونا ہےVaibhav Kumar (b. 2000)
- فساد کرتے ہوئے ہر کسی سے بھول ہوئیحسد میں ڈوب چکے آدمی سے بھول ہوئیVaibhav Kumar (b. 2000)
- کبھی تمہارا مرا سامنا نہیں ہوتاوگرنہ شہر میں ہر روز کیا نہیں ہوتاVaibhav Kumar (b. 2000)
- ظلم پر بھی جو صنم ہر دم ہوکیوں نہ پھر اس کا ستم ہر دم ہوvatsal rohilla (b. 2000)
- کبھی تو باعث پندار دے دومجھے اک موقع دیدار دے دوvatsal rohilla (b. 2000)
- مری میان میں میرا بیان رہتا ہےمرے جگر میں تو ہندوستان رہتا ہےvatsal rohilla (b. 2000)
- نہ جانے نکلے بڑے لوگ ہیں کہاں کی طرفزمیں کی بات ہے اور آنکھ آسماں کی طرفvatsal rohilla (b. 2000)
- بتا دوں گا مری سب نیکیاں بھیمگر ہیں دوست مجھ میں خامیاں بھیVijay Potter Singhadiya (b. 2000)
- کر رہے ہیں وار میرے یار مجھ پررحم کر کچھ تو کہانی کار مجھ پرVijay Potter Singhadiya (b. 2000)
- آنسوؤں کو روشنائی کر رہا ہوںاس زمانہ سے لڑائی کر رہا ہوںAadarsh Dubey (b. 2001)
- ایسا لمحہ ادھار دے کوئیجس میں صدیاں گزار دے کوئیAadarsh Dubey (b. 2001)
- ایک چہرہ گماں میں رہتا ہےبادلوں کے جہاں میں رہتا ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- تمام رات غموں کو نچوڑا جاتا ہےپرانے جال سے باہر نکلنا مشکل ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- تمام نیکیاں دریا میں ڈالنے کے لیےنکل پڑے ہیں سمندر کھنگالنے کے لیےAadarsh Dubey (b. 2001)
- تم کو چھوڑا تو ایسا لگا جیسے خود سے الگ ہو گئےایک منزل کو جاتے ہوئے اپنے رستے الگ ہو گئےAadarsh Dubey (b. 2001)
- ٹھہری ٹھہری سی زندگی کیوں ہےمیری آنکھوں میں یہ نمی کیوں ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- جاتے جاتے مجھے خوشی دے دیاس نے آواز آخری دے دیAadarsh Dubey (b. 2001)
- جب جدا ہونے کا منظر آ گیا تھاایک قطرے میں سمندر آ گیا تھاAadarsh Dubey (b. 2001)
- دل میرا گھبراتا ہےجب جب دور وہ جاتا ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- دل ہے الگ مزاج کے دو بھائیوں کا گھرلگتا ہے صرف مجھ کو یہ تنہائیوں کا گھرAadarsh Dubey (b. 2001)
- دیکھو بھائی ایسا ہےیہ دل درپن جیسا ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- دے دو نہ ایک بار مرا ساتھ جان منآتی نہیں ہے نیند مجھے رات جان منAadarsh Dubey (b. 2001)
- ذرا سی دیر چراغوں کا دل بہل جائےیہ آفتاب کہیں اور جا کے جل جائےAadarsh Dubey (b. 2001)
- سونا پڑا ہے دل کا مکاں آپ کے بنارہ رہ کے اٹھ رہا ہے دھواں آپ کے بناAadarsh Dubey (b. 2001)
- شام ہوتے ہی ٹھکانے پہ بھی آ سکتا ہےدل پرندہ ہے نشانے پہ بھی آ سکتا ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- کوئی سمجھتا ہے سارے کہاں سمجھتے ہیںتمام لوگ اشارے کہاں سمجھتے ہیںAadarsh Dubey (b. 2001)
- گناہ اپنے گناتا ہوں ڈرنے لگتا ہوںخدا کے سامنے جاتا ہوں ڈرنے لگتا ہوںAadarsh Dubey (b. 2001)
- مجھ خانماں خراب سے آگے کی چیز ہےدنیا کسی عذاب سے آگے کی چیز ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- مجھ کو مجھ سے ہی جدا کرتی ہےوہ مجھے روز نیا کرتی ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- مجھے یہ ڈر ہے کہ اب بس یہی نہ کر بیٹھوںتری خوشی میں کہیں خودکشی نہ کر بیٹھوںAadarsh Dubey (b. 2001)
- مرے سامنے تو مرا پیار ہوگاوہ نظروں سے دل میں گرفتار ہوگاAadarsh Dubey (b. 2001)
- مشکل کو اس نے سب کی آسان کر دیا ہےموجودگی کا اپنی اعلان کر دیا ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- میں تمہارا رہا رات بھرکسمساتا رہا رات بھرAadarsh Dubey (b. 2001)
- ہم کہیں بھی ہوں مگر یہ چھٹیاں رہ جائیں گیپھول سب لے جائیں گے پر پتیاں رہ جائیں گیAadarsh Dubey (b. 2001)
- اک دیا دل میں جلاتا ہے چلا جاتا ہےوہ مجھے دیکھ کے رکتا ہے چلا جاتا ہےFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- انتظار اس کا کر بھی سکتے ہوکر کے وعدہ مکر بھی سکتے ہوFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- اول اول خواب دکھایا جائے گابعد میں امیدوں کو توڑا جائے گاFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)