کبھی تو باعث پندار دے دو

vatsal rohilla (b. 2000)

کبھی تو باعث پندار دے دو

مجھے اک موقع دیدار دے دو

ہوا کو کاٹنا میں چاہتا ہوں

مرے ہاتھوں میں اک تلوار دے دو

سخن زر زبان آتے رہیں گے

مجھے ہر گوش بھی بے زار دے دو

زیادہ مان کے غلطی کروں گا

کبھی تھوڑا سا مجھ کو پیار دے دو

یہ خاموشی بہت کھلتی ہے یارو

نہیں ہیں گل تو مجھ کو خار دے دو

مجھے نقشے سمجھ آتے نہیں ہیں

مجھے تصویر کوئے یار دے دو

مجھے نقشے سمجھ آتے نہیں ہیں

مجھے تصویر کوئے یار دے دو

بہل جائے گا کچھ پل کو مرا دل

کوئی جھوٹا سا اک دل دار دے دو

کسی سے دل لگانا ہے مجھے بس

کہانی کا ہی اک کردار دے دو

بڑا ویرانہ ہے دل تیرا وتسلؔ

مکاں کو اس کرایہ دار دے دو