ایسا لمحہ ادھار دے کوئی
Aadarsh Dubey (b. 2001)ایسا لمحہ ادھار دے کوئی
جس میں صدیاں گزار دے کوئی
بعد مدت کے خط لکھے وہ مجھے
اور کبوتر کو مار دے کوئی
یہ جو سردار بن کے بیٹھا ہے
اس کی پگڑی اتار دے کوئی
مست رکھے جو ہوش میں بھی مجھے
اب تو ایسا خمار دے کوئی
کیا خبر حادثاتی دنیا میں
کب کہاں مجھ کو مار دے کوئی
ایک وعدہ کہ جس کے سائے میں
عمر ساری گزار دے کوئی
دشت کو گھر بنا کے بیٹھا ہوں
اس کو آ کر سنوار دے کوئی