تمام نیکیاں دریا میں ڈالنے کے لیے
Aadarsh Dubey (b. 2001)تمام نیکیاں دریا میں ڈالنے کے لیے
نکل پڑے ہیں سمندر کھنگالنے کے لیے
ستم تو یہ ہے کے تیشہ نہیں ملا ہم کو
پہاڑ کاٹ کے رستا نکالنے کے لیے
نہ جانے کتنوں کی قیمت گرائی جاتی ہے
امیر شہر کی قیمت اچھالنے کے لیے
ہم ایسے لوگوں کو لایا گیا ہے دنیا میں
کنویں میں کود کے سکہ نکالنے کے لیے
کسی کے ہجر کی ہم آگ پیتے رہتے ہیں
سلگتے لفظوں کو غزلوں میں ڈھالنے کے لیے
ذرا سنبھالنا آ جائے آدمی کو اگر
تو ایک غم ہی بہت ہے سنبھالنے کے لیے