یادوں کے حصار میں جکڑے وجود پہ
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)یادوں کے حصار میں جکڑے وجود پہ
شب نے آخری دستک دی
آنکھ کے ساتویں پردے پہ اک عکس
مسلسل تیر رہا ہے
جس کے باعث
نیند کو اذن حاضری نہیں ملا
ہماری باتوں کے سارے سر سننے والا
نیم کا درخت
اور انگوٹھی میں جڑا عقیق
ایک جیسے ہیں
دل پہ اضطراری کیفیت طاری ہے
دماغ طویل مسافت کی جانب گامزن ہے
بے خیالی میں
ہم سارا دن اک دوسرے کے
ناموں میں سبز رنگ بھرتے ہیں
اس سرخ دائرے میں
چھپے راز کو جاننے پہ کام جاری ہے
ڈھلتی شام کے سائے سے میرے افق
سیاہ ہونے لگے
جذبوں کی صداقت کا دائرہ
جب مکمل ہوا تو
لمس کا رنگ بننے لگا
مری ذات کے مدار میں اک نام کا رقص جاری ہے
سیاہ گلاب کے جذبات کی عکاسی
علم نفسیات سے بالاتر ہے