جب جدا ہونے کا منظر آ گیا تھا

Aadarsh Dubey (b. 2001)

جب جدا ہونے کا منظر آ گیا تھا

ایک قطرے میں سمندر آ گیا تھا

ہاتھ میں جب تیرے پتھر آ گیا تھا

گھر سے میں دیوانہ باہر آ گیا تھا

ڈھونڈھتا رہتا ہوں آئینہ میں خود کو

کون میرے اتنے اندر آ گیا تھا

پی لیا تھا ایک کڑوا گھونٹ اس نے

ذائقہ میرے لبوں پر آ گیا تھا

عشق بس پہلی دفعہ اچھا لگا تھا

دوسرے چکر میں چکر آ گیا تھا

اس لیے تیری کہانی سے ہوں باہر

مجھ سے اک کردار بہتر آ گیا تھا