اس کو فراق یار کا مطلب نہیں پتہ
Kaif Uddin Khan (b. 2000)اس کو فراق یار کا مطلب نہیں پتہ
مطلب اسے بھی پیار کا مطلب نہیں پتہ
مرنا تو چاہتے ہیں مگر کیا کریں کہ جب
سانسوں کو اختیار کا مطلب نہیں پتہ
مجھ کو بھی اب یقین کسی بات پر نہیں
اس کو بھی اعتبار کا مطلب نہیں پتہ
رکھتے ہو تم حساب غم زندگی کا جو
کیا تم کو بے شمار کا مطلب نہیں پتہ
اس سے گلہ کریں بھی اگر ہم تو کس لیے
جس کو کہ غم گسار کا مطلب نہیں پتہ
گو کر رہا ہے گل کی حفاظت شجر مگر
پت جھڑ کو نوبہار کا مطلب نہیں پتہ