پہلے تو یہ لگا مجھے اس پار گر گئی
Kaif Uddin Khan (b. 2000)پہلے تو یہ لگا مجھے اس پار گر گئی
پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر گئی
سینچا لہو سے اس کا دل داغدار اور
میرے بدن میں خون کی مقدار گر گئی
ہونے لگی ہے برق سے میری مماثلت
کچھ اس لحاظ سے مری رفتار گر گئی
اس کی نگاہ ناز سے لشکر بھی کٹ گئے
پھر کیا کہ میرے ہاتھ سے تلوار گر گئی
پھر زندگی کی موج سے کشتی ہوئی تباہ
جب دست نارسائی سے پتوار گر گئی
میں بھی مرے نظام سے اوپر چلا گیا
وہ بھی حد نظام سے بے کار گر گئی