مشکل کو اس نے سب کی آسان کر دیا ہے

Aadarsh Dubey (b. 2001)

مشکل کو اس نے سب کی آسان کر دیا ہے

موجودگی کا اپنی اعلان کر دیا ہے

بیٹھے ہوئے ہیں پتھر شیشوں کا جسم پہنے

محفل نے تیری سب کو حیران کر دیا ہے

اتنی جگہ کہاں تھی رکھ پائیں ساری دنیا

کچھ اس لیے بھی دل کو ویران کر دیا ہے

حیران ہیں ہوائیں موسم بھی ہے پریشاں

جھونکے کو اس نے کیسے طوفان کر دیا ہے

میں چاہ کے بھی اس کو شاید نہ بھول پاتا

اے وقت تو نے مجھ پر احسان کر دیا ہے