بھلے سکوت میں ٹوٹے یا کو بہ کو ٹوٹے

Kaif Uddin Khan (b. 2000)

بھلے سکوت میں ٹوٹے یا کو بہ کو ٹوٹے

میں چاہتا ہوں کہ اندر کی ہاؤ ہو ٹوٹے

تمہاری خاک سے تعمیر کیا نہیں ہوتا

مرے وجود کو پیکر ملے جو تو ٹوٹے

میں چاہتا ہوں تجھے دیکھ کر عبادت ہو

میں چاہتا ہوں تجھے دیکھ کر وضو ٹوٹے

یہ رات مشک فشاں اور نور افشاں ہو

کبھی اگر جو مرا خواب رنگ و بو ٹوٹے

کبھی تو خواب پریشاں بھی محو غفلت ہو

کبھی تو فکر و تردد کی جستجو ٹوٹے

دکھائی دے گی ہمیں روبرو حقیقت پھر

اگر یہ وہم کی مورت جو چار سو ٹوٹے