فساد کرتے ہوئے ہر کسی سے بھول ہوئی

Vaibhav Kumar (b. 2000)

فساد کرتے ہوئے ہر کسی سے بھول ہوئی

حسد میں ڈوب چکے آدمی سے بھول ہوئی

حسین ہونٹ پہ رکھا حسین تل اس نے

بنانے والے سے کیا سادگی سے بھول ہوئی

جو تو کھڑی تھی تو پچھم کی اور تکتا رہا

تجھے نہار کے سورج مکھی سے بھول ہوئی

جوان لاش پہ دیکھا جو چودھویں کا چاند

خدا قسم یہ لگا چاندنی سے بھول ہوئی

یہ اشک بہتے رہے سب غزل سمجھتے رہے

مجھے پرکھنے میں سچ مچ سبھی سے بھول ہوئی