یوں طلب گار ہو گیا ہے دل

Kaif Uddin Khan (b. 2000)

یوں طلب گار ہو گیا ہے دل

سمجھو بیمار ہو گیا ہے دل

آنے جانے کا راستا ہی نہیں

یعنی دیوار ہو گیا ہے دل

پہلے لاتا تھا کام میں اس کو

اب تو بے کار ہو گیا ہے دل

چوٹ کھاتا ہوں سوز سینہ میں

پھول سے خار ہو گیا ہے دل

ہر تمنا سے متفق ہو کر

کتنا بیزار ہو گیا ہے دل