یاد کے پتوں کا رنگ
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)یاد کے پتوں کا رنگ
ہمیشہ سبز نہیں رہا
چاند رات اور میں تینوں
درد کی باتیں سنتے رہے
گفتگو کے اختتام پر
میں نے آنکھیں نچوڑیں
ایک بنجر خواب کے سوا کچھ نہیں نکلا
میں نے آواز کو
ساتویں پردے کے پیچھے سے سنا
وصل کی راحت کا ذائقہ
تا حال اجنبی ہے
سوالیہ چیخ
اپنے مقررہ آسمان تک نہیں پہنچ سکی
میں اپنی ذات کے سارے حوالوں کو
اک جانب لپیٹ کر رکھ بھی دوں
تو
شجرے کی نسبت کا بوجھ
مرے قلم کو
تمہارا نام لکھنے نہیں دے گا
سفید پھول سیاہ ہو رہا ہے