مجھے سبز سفر در پیش ہے

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

مجھے سبز سفر در پیش ہے

سورج مکھی کا باغ

ہوا کے سنگ ناچتا

اور چاند گنگنا رہا ہے

رنگ میرے ہیں

مگر پھول میرا کیوں نہیں

کائنات کے سینے میں

بجتا ساز

مجھے تلاشنا ہے

مسرتوں کو ٹھکانہ دکھاتی

دکھوں کو

ان کہ مقام پہ منتقل کرتی

بصیرتوں سے

محروم نگاہوں میں رنگ بھرتی

بنجر سماعتوں کا رزق

کہاں گمشدہ ہے

اس دھن تک مجھے جانا ہے

یہ جہاں

کس سر پہ محو رقص ہے

تخت ہزارے سے

جھنگ تک کا سفر

بانسری ہے