Poetry
Poet
Meter
- مل کے اک بار اسے یاد نہیں ہونے کےدل کے اجڑے نگر آباد نہیں ہونے کےFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- ویران سا اب ہوں جو میں ایسا تو نہیں تھاہوتا تھا سمندر کبھی صحرا تو نہیں تھاFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- ہو سکے تو مجھے اک شام عنایت کرنابرپا اس دل پہ مری جان قیامت کرناFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیاعجیب سایہ نحوست کا گھر پہ بیٹھ گیاYasmeen Sahar (b. 1968)
- خیال اندر ہی اندر مر گیا ہےترا غم مجھ کو پاگل کر گیا ہےYasmeen Sahar (b. 1968)
- دھواں اڑاتی ہوئی دھیمی دھیمی بارش ہےہوا کی اندھی سواری پہ اندھی بارش ہےYasmeen Sahar (b. 1968)
- سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوںبڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوںYasmeen Sahar (b. 1968)
- قطار جگنوؤں کی روشنی لٹاتی رہیمیں رنگ گوندھ کے تتلی کے پر بناتی رہیYasmeen Sahar (b. 1968)
- کچھ اس پہ سوچنا تھا مشورہ بھی کرنا تھامعاملے پہ ابھی تبصرہ بھی کرنا تھاYasmeen Sahar (b. 1968)
- مجھ پہ ٹوٹی جو سیہ رات بتانے کی نہیںیعنی یہ گردش حالات بتانے کی نہیںYasmeen Sahar (b. 1968)
- میرے لفظوں سے چلی بات مرے لفظوں کیطے ہوئی مجھ سے ملاقات مرے لفظوں کیYasmeen Sahar (b. 1968)
- بے بسوں پر دیا نہیں آتیان کو یہ ہی ادا نہیں آتیUsha Jha (b. 1968)
- پھول امید کے کھلا نہ سکاچاہ کر بھی بہار لا نہ سکاUsha Jha (b. 1968)
- نئی جفا کا مجھے اب تو کوئی باب نہ دےمیں جس کو پڑھ کے بہک جاؤں وہ کتاب نہ دےParvez Ahmad Parvez (b. 1968)
- بیٹھ کر ایک ڈال پر فی الحالاے پرندے نکال پر فی الحالEhtisham Hasan (b. 1969)
- پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہےکاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہےEhtisham Hasan (b. 1969)
- سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھاکمرے کم ہوتے تھے اور دالان کشادہ ہوتا تھاEhtisham Hasan (b. 1969)
- عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پرجہاں دیکھا وہاں تھے آپ ہی ساری نشستوں پرEhtisham Hasan (b. 1969)
- کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سےیہ پہلا تعارف ہے مرا تازہ ہوا سےEhtisham Hasan (b. 1969)
- کہیں چراغ بجھانا پڑا کہ میں بھی ہوںکہیں پہ خود کو جلانا پڑا کہ میں بھی ہوںEhtisham Hasan (b. 1969)
- مرحبا دیدۂ مے نوش میں آنے والےاب ترے رند نہیں ہوش میں آ نے والےEhtisham Hasan (b. 1969)
- مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیںآدمی موم بنیں اور پگھلنے لگ جائیںEhtisham Hasan (b. 1969)
- ہوئے جس عشق کے محصور جانے ہی نہیں دیتاہمیں خود سے زیادہ دور جانے ہی نہیں دیتاEhtisham Hasan (b. 1969)
- یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیںمیں جو چاہوں بھی تو اک ڈر سے نکلنے کا نہیںEhtisham Hasan (b. 1969)
- اس طرح سے نہ رولیے آنسوقہقہوں میں بھی گھولیے آنسوKaleem Noori Firozabadi (b. 1969)
- اس کو چھونے کو کئی ہاتھ نکل کر آئےچاند سے کس نے کہا تھا کہ وہ چھت پر آئےKaleem Noori Firozabadi (b. 1969)
- خواہش دید کے آنکھوں میں اجالے لے کرڈھونڈھتا ہوں میں تجھے پاؤں میں چھالے لے کرKaleem Noori Firozabadi (b. 1969)
- خوشبوؤں میں اتر رہے ہیں ہمتم کو محسوس کر رہے ہیں ہمKaleem Noori Firozabadi (b. 1969)
- غم کا جزدان ہو گیا ہوں میںاپنی پہچان ہو گیا ہوں میںKaleem Noori Firozabadi (b. 1969)
- کیا جئے گا کوئی ہم خاک نشینوں کی طرحایک اک پل یہاں گزرا ہے مہینوں کی طرحKaleem Noori Firozabadi (b. 1969)
- مہکنے کا قرینہ آ گیا ہےچراغوں کی لویں اب سست کر دوKaleem Noori Firozabadi (b. 1969)
- اپنوں کے کرم سے گر تو دور رہا ہوتااحسان کے شعلوں سے دامن نہ جلا ہوتاNaeem Badauni (b. 1969)
- اللہ جانے کیسا چمن پر عذاب ہےکانٹوں پہ ہے شباب فسردہ گلاب ہےNaeem Badauni (b. 1969)
- جب چراغوں کی طرف مائل ہوا ہو جائے گیزندگی جلتے چراغوں کی فنا ہو جائے گیNaeem Badauni (b. 1969)
- زندگی بھر ہم سے مت پوچھو کہ کیا کرتے رہےگردش دوراں کا جم کر سامنا کرتے رہےNaeem Badauni (b. 1969)
- شاداں بہت تھے زیست کی تصویر دیکھ کراب رو رہے ہیں خواب کی تعبیر دیکھ کرNaeem Badauni (b. 1969)
- مشکلوں سے جو ڈر گئے ہوتےزندہ کب رہتے مر گئے ہوتےNaeem Badauni (b. 1969)
- بھیگی بھیگی برکھا رت کے منظر گیلے یاد کرودو ہونٹ رسیلے یاد کرو دو نین کٹیلے یاد کروGhaus Siwani (b. 1969)
- تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہےکہیں تلسی نہیں چندن نہیں ہےGhaus Siwani (b. 1969)
- دل کی نیا دو نینوں کے موہ میں ڈوبی جائےڈگ مگ ڈولے ہائے رے نیا ڈگ مگ ڈولے ہائےGhaus Siwani (b. 1969)
- کیسا ہوگا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رےکیسی ہوگی دھوپ وہاں کی کیسی وہاں کی چھاؤں رےGhaus Siwani (b. 1969)
- انسانوں کا چپ کر جانا ٹھیک نہیںتحریروں کا شور مچانا ٹھیک نہیںDanish Aziz (b. 1970)
- بکھرا پڑا تھا جا بجا کچرا وجود کاہم چھوڑ آئے اس گلی ملبہ وجود کاDanish Aziz (b. 1970)
- بے شمارو میرے یارو الوداعمرغ زارو چاند تارو الوداعDanish Aziz (b. 1970)
- پگڈنڈی لگ رہی تھی پہاڑوں کے درمیاںنکلی ہوئی تھی مانگ یوں بالوں کے درمیاںDanish Aziz (b. 1970)
- تو فقط کہانی سن ہچکیوں کو بھول جااشک بار لوگ گن تالیوں کو بھول جاDanish Aziz (b. 1970)
- حسیں جبیں پہ مرے ہونٹ تھرتھرانے لگےپھر اس کے بعد مرے ہوش کب ٹھکانے لگےDanish Aziz (b. 1970)
- دھڑکتے دل کو یوں دھڑکن سنایا کرتے ہیںکھلی ہوں بانہیں تو ان میں سمایا کرتے ہیںDanish Aziz (b. 1970)
- کہا تھا تم سے نہ پیار کرنا وہی کیا نانہ لفظ بننا نہ شعر کہنا وہی کیا ناDanish Aziz (b. 1970)
- گر صبح دم وہ خوش گلو خوش خو نکل پڑےپھولوں کو چھوڑ چھاڑ کے خوشبو نکل پڑےDanish Aziz (b. 1970)