اللہ جانے کیسا چمن پر عذاب ہے
Naeem Badauni (b. 1969)اللہ جانے کیسا چمن پر عذاب ہے
کانٹوں پہ ہے شباب فسردہ گلاب ہے
ہر وقت مطمئن ہوں میں اپنی حیات سے
مجھ پر کسی کا لطف و کرم بے حساب ہے
دامن ہے چاک چہرہ فسردہ اور آنکھ نم
جو کچھ بھی ہے یہ بخشش عالی جناب ہے
تعبیر سب کو خواب کی ملتی نہیں مگر
تعبیر جس کی تم ہو حقیقت وہ خواب ہے
وہ خود بھی چل رہے ہیں زمانے کے ساتھ ساتھ
اور پھر بھی کہہ رہے ہیں زمانہ خراب ہے
منزل قدم نعیمؔ کے چومے گی ایک دن
جب اس کے ساتھ آپ کا غم ہم رکاب ہے