مہکنے کا قرینہ آ گیا ہے

Kaleem Noori Firozabadi (b. 1969)

مہکنے کا قرینہ آ گیا ہے

چراغوں کی لویں اب سست کر دو

ستاروں کو پسینا آ گیا ہے

اے میری زندگی تجھ سے بچھڑ کر

مجھے قسطوں میں جینا آ گیا ہے

چلو طوفاں سے بھی اب بات کر لیں

کنارے پر سفینہ آ گیا ہے

اتر جائے گا سورج تیرا نشہ

دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے