اپنوں کے کرم سے گر تو دور رہا ہوتا

Naeem Badauni (b. 1969)

اپنوں کے کرم سے گر تو دور رہا ہوتا

احسان کے شعلوں سے دامن نہ جلا ہوتا

دامن مرا دنیا کی دولت سے بھرا ہوتا

میں نے بھی ضمیر اپنا گر بیچ دیا ہوتا

اوقات ہی کیا ہوتی ہم خاک نشینوں کی

رشتہ تری یادوں سے گر توڑ دیا ہوتا

گلشن کی بہاروں سے کچھ تو ہمیں مل جاتا

غم اس کا نہ تھا دامن کانٹوں سے بھرا ہوتا

گر تو مرا ہو جاتا دنیا مری ہو جاتی

دنیا نہ خفا ہوتی گر تو نہ خفا ہوتا

احساس تمہیں ہوتا تب میری تباہی کا

جو وقت پڑا مجھ پر تم پر بھی پڑا ہوتا

دنیا سے نعیمؔ اپنی تقدیر جدا ہوتی

اشکوں کو مرے ان کا دامن جو ملا ہوتا