شاداں بہت تھے زیست کی تصویر دیکھ کر
Naeem Badauni (b. 1969)شاداں بہت تھے زیست کی تصویر دیکھ کر
اب رو رہے ہیں خواب کی تعبیر دیکھ کر
آنکھوں میں اشک پاؤں میں زنجیر دیکھ کر
وہ خود بھی رو پڑے مری تصویر دیکھ کر
خط کے جواب میں ہیں ستاروں کی جھلکیاں
شاید وہ روئے ہیں مری تحریر دیکھ کر
دونوں جہاں کا حسن نگاہوں میں آ گیا
اب کس کو دیکھوں آپ کی تصویر دیکھ کر
تم تو غم حیات کی تصویر ہو نعیمؔ
اب کیا کرو گے تم کوئی تصویر دیکھ کر