زندگی بھر ہم سے مت پوچھو کہ کیا کرتے رہے
Naeem Badauni (b. 1969)زندگی بھر ہم سے مت پوچھو کہ کیا کرتے رہے
گردش دوراں کا جم کر سامنا کرتے رہے
گلستاں تو جل گیا لیکن محبان چمن
آپ سے ہم پوچھتے ہیں آپ کیا کرتے رہے
شہر سارا نفرتوں کی آگ میں جلتا رہا
آپ تھے کہ گھر میں بیٹھے مشورہ کرتے رہے
لٹ گیا سب کچھ تو گہری نیند سے آنکھیں کھلیں
ہم کو کیا کرنا تھا یارو اور کیا کرتے رہے
ان کی نظروں کو نہ بھایا دوسرا کوئی نعیمؔ
مجھ پہ ہی وہ ہر ستم کی انتہا کرتے رہے