Poetry
Poet
Meter
- مجھ کو تھپک تھپک کے سلاتا رہا چراغپہلو میں رات بھر مرے بیٹھا رہا چراغDanish Aziz (b. 1970)
- میرے جیسے اس بستی میں اور بھی پاگل رہتے ہیںسب نے آنکھیں گروی رکھ کر آدھے خواب خریدے ہیںDanish Aziz (b. 1970)
- وہ کسی اور سے ملا ہوگادل یہ کہتا ہے واہمہ ہوگاDanish Aziz (b. 1970)
- ہو جائیں کسی کے جو کبھی یار منافقسمجھو کہ ہوئے ہیں در و دیوار منافقDanish Aziz (b. 1970)
- اک لمحۂ وصال سے آگے نکل گئیمیں خواہشوں کے جال سے آگے نکل گئیJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- اگرچہ سب سے ملے گی تمہاری شہزادیمگر تمہاری رہے گی تمہاری شہزادیJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- تاکتی جھانکتی رہی آنکھیںجانے کیا کھوجتی رہی آنکھیںJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- تھی کہاں جرأت کسی میں ہاں مگر اس نے کیادل کے اس خالی مکاں کو آج گھر اس نے کیاJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- خواہش وصل تو بیکار نہیں کر سکتاوہ مری دید سے انکار نہیں کر سکتاJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- دل مرا لوٹ گیا وہ بڑی توقیر کے ساتھجو مجھے جیت نہ پایا کبھی شمشیر کے ساتھJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- سر پہ اب سائباں نہیں پیارےسو کہیں بھی اماں نہیں پیارےJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنےبد دعا میں ہے دعا اس کی دعا کے سامنےJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- عمر بھر جس کی محبت میں گرفتار رہیاس کو دیوار کیا خود پس دیوار رہیJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- نیند میری ہے خواب لوگوں کےہیں مرے سر عذاب لوگوں کےJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- تمہارے لمس کی خوشبو نے صندل کر دیا ہےکہ میں پاگل تھی تم نے اور پاگل کر دیا ہےJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- مجھے دیکھومجھے سوچوJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیںنقابوں میں چھپے چہروں کو ہم پہچان لیتے ہیںGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- اونچا اڑنے کا بھی ارمان ابھی باقی ہےپر تو کاٹے گئے پر جان ابھی باقی ہےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- بجھی بجھی سی نظر میں قرار کس کا ہےہمیں بتا دو تمہیں انتظار کس کا ہےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرحبیچا گیا میں آج بھی ہر بار کی طرحGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- ٹوٹے ہوئے پروں سے پرواز کر رہے ہیںہم پھر نئے صفر کا آغاز کر رہے ہیںGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- چاہتوں کا ذرا اثر بھی ہوپیار کی آگ اب ادھر بھی ہوGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- کوئی رہزن نہ اب راہبر چاہئےاس سفر میں ہمیں ہم سفر چاہئےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- کوئی ہے تیر تو کوئی کمان جیسا ہےیہاں یقین بھی سب کا گمان جیسا ہےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- میلا تن تو دھویا جائے میلے من کو دھوئے کونہنستا ہے جو سب کے دکھ میں اس کے دکھ میں روئے کونGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- یوں زندگی کے لئے بے قرار ہیں ہم لوگشکایتوں کے لئے شرمسار ہیں ہم لوگGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- آنکھوں سے مناظر کا تسلسل نہیں ٹوٹامیں لٹ گیا پر تیرا تغافل نہیں ٹوٹاNadeem Mahir (b. 1970)
- ایک خوف و ہراس پانی میںسارے منظر اداس پانی میںNadeem Mahir (b. 1970)
- بام و در پر رینگتی پرچھائیاںمجھ سے اب مانوس ہیں تنہائیاںNadeem Mahir (b. 1970)
- تری یادوں کی نقاشی کھرچ کر پھینک آئے ہیںجھلستی ریت پر ہم اک سمندر پھینک آئے ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- زخموں کو کریدا ہے تو ماضی نکل آیاسوکھے ہوئے دریاؤں سے پانی نکل آیاNadeem Mahir (b. 1970)
- زمین و آسماں کی ساری پرتیں چیخ اٹھتی ہیںوہ واحد لم یزل ہے سب دلیلیں چیخ اٹھتی ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- سورج اور مہتاب بکھرتے جاتے ہیںجینے کے اسباب بکھرتے جاتے ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- گرتے گرتے سنبھل رہا ہوں میںدسترس سے نکل رہا ہوں میںNadeem Mahir (b. 1970)
- گرد و غبار یوں بڑھا چہرہ بکھر گیاملبوس تھا میں جس میں لبادہ بکھر گیاNadeem Mahir (b. 1970)
- ہم بزرگوں کی آن چھوڑ آئےخاندانی مکان چھوڑ آئےNadeem Mahir (b. 1970)
- الفاظ بک رہے تھے خریدے نہیں گئےاسکول ہم غریبوں کے بچے نہیں گئےNadeem Farrukh (b. 1970)
- بھول جاؤ گے تم اگر مجھ کوکون دے گا مری خبر مجھ کوNadeem Farrukh (b. 1970)
- غم و خوشی کے اگر سلسلے نہیں چلتےتو میرے ساتھ کبھی حوصلے نہیں چلتےNadeem Farrukh (b. 1970)
- کچھ اس طرح سے زمانے پہ چھانا چاہتا ہےوہ آفتاب پہ پہرے بٹھانا چاہتا ہےNadeem Farrukh (b. 1970)
- کئی سپنے ادھورے رہ گئے ہیںمری مٹھی میں لمحے رہ گئے ہیںNadeem Farrukh (b. 1970)
- وہ پتھرائی سی آنکھوں کو بھی کاجل بھیج دیتا ہےسلگتی دوپہر میں جیسے بادل بھیج دیتا ہےNadeem Farrukh (b. 1970)
- ہاتھوں کو کشکول بنائے بیٹھے ہیںبھوکے بچے غول بنائے بیٹھے ہیںNadeem Farrukh (b. 1970)
- جو لوگ گزرتے ہیں مسلسل رہ دل سےدن عید کا ان کو ہو مبارک تہ دل سےObaid Azam Azmi (b. 1970)
- دیکھتا ہوں تو نہیں رحم کے قابل کوئیسوچتا ہوں تو ہزاروں ترس آتا ہےObaid Azam Azmi (b. 1970)
- راہوں میں جان گھر میں چراغوں سے شان ہےدیپاولی سے آج زمین آسمان ہےObaid Azam Azmi (b. 1970)
- نزاکت ہے بہت اس میں مگر یہ جانتا ہوں میںمحبت جس کو ہو جاتی ہے اردو سیکھ جاتا ہےObaid Azam Azmi (b. 1970)
- اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلےطواف کرتا ہوا موسم بہار چلےAalok Shrivastav (b. 1971)
- تو وفا کر کے بھول جا مجھ کواب ذرا یوں بھی آزما مجھ کوAalok Shrivastav (b. 1971)
- ٹھیک ہوا جو بک گئے سینک مٹھی بھر دیناروں میںویسے بھی تو زنگ لگا تھا پشتینی ہتھیاروں میںAalok Shrivastav (b. 1971)