گر صبح دم وہ خوش گلو خوش خو نکل پڑے
Danish Aziz (b. 1970)گر صبح دم وہ خوش گلو خوش خو نکل پڑے
پھولوں کو چھوڑ چھاڑ کے خوشبو نکل پڑے
تیری گلی ہو لوگ ہوں گھنگھرو پہن کے میں
ایڑی گھما کے رقص کروں تو نکل پڑے
اس نے کسی غزل میں سہارے کی بات کی
چاروں طرف سے کتنے ہی بازو نکل پڑے
ہم بادہ خوار اہل سبو سکھ کا سانس لیں
واعظ کی جیب سے کہیں دارو نکل پڑے
خواہش ہے میں خرید لوں غالبؔ کا خستہ گھر
اور معجزہ ہو صحن سے اردو نکل پڑے
اس گل بدن نے شاخ کو دیکھا جو پیار سے
پتوں پہ آنکھیں بن گئیں ابرو نکل پڑے
دانشؔ بقائے عشق کا منشور تھام کر
وارث نکل پڑے ,کبھی باہو نکل پڑے